وہ جو خوشبوؤں کی فصیل تھی مرے چارسو، وہ نہیں رہی
مرے چارسو، وہ جو روشنی کا حصار تھا وہ نہیں رہا
وہ جو رنگ و بو کا شکار تھا، وہ جو گل رخوں پہ نثار تھا
وہ جو مبتلائے بہار تھا، دل زار تھا، وہ نہیں رہا
غم جسم و جاں ، غم دوستاں ، غم رفتگاں بھی بجا مگر
وہ جو غم کدے کا نکھار تھا، غم یار تھا، وہ نہیں رہا
وہی جلوہ گاہ جمال ہے ، وہی رسم و راہ جنوں مگر
سر عاشقاں کا جو بانکپن سردار تھا، وہ نہیں رہا
وہ کرم رہا نہ ستم رہا، نہ خوشی رہی نہ وہ غم رہا
جو عنایتوں کا، شکایتوں کا شمار تھا، وہ نہیں رہا
Na Zmeen Hay Meri Qraar Gah, Na Falak Hay Manzil-e-Jazb-e-Dil....Bari Dair Say Hay Safar Mera, Teri Yaad Say Teri Yaad Tak
September 19, 2017
September 14, 2017
کاش۔ ۔۔۔
کاش ہم سمجھ لیتے
منزلوں کی چاہت میں
راستہ بدلنے سے
فاصلہ نہیں گھٹتا
دو گھڑی کی قُربت میں
چار پل کی چاہت میں
لوگ لوگ رہتے ہیں
قافلہ نہیں بنتا
ہاتھ میں دیا لے کر
ہونٹ پر دعا لے کر
منزلوں کی جانب کو
چل بھی دیں تو کیا ہو گا
خواہشوں کے جنگل میں
اتنی بھیڑ ہوتی ہے
عمر کی مُسافت میں
راستہ نہیں ملتا
منزلوں کی چاہت میں
راستہ بدلنے سے
فاصلہ نہیں گھٹتا
دو گھڑی کی قُربت میں
چار پل کی چاہت میں
لوگ لوگ رہتے ہیں
قافلہ نہیں بنتا
ہاتھ میں دیا لے کر
ہونٹ پر دعا لے کر
منزلوں کی جانب کو
چل بھی دیں تو کیا ہو گا
خواہشوں کے جنگل میں
اتنی بھیڑ ہوتی ہے
عمر کی مُسافت میں
راستہ نہیں ملتا
September 10, 2017
Beautiful ..
ﺭﻭﺯ ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺋﺶ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﭼﺎﻧﺪ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﯾﮏ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮨﮯ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻭﻗﺖ ﺑﮯ ﻭﻗﺖ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺍ ﺟﺎﮔﺘﺎ ﺧﻮﺍﺏ
ﺭﻭﺯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﺭﻭﺯ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﺰﻝ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺭﻭﺯ ﺷﯿﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ﺳﺎﻧﺴﻮ ﺫﺭﺍ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﭼﻠﻮ
ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
راحت اندوری
ﭼﺎﻧﺪ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﯾﮏ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮨﮯ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻭﻗﺖ ﺑﮯ ﻭﻗﺖ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﭼﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺍ ﺟﺎﮔﺘﺎ ﺧﻮﺍﺏ
ﺭﻭﺯ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﺭﻭﺯ ﭘﺘﮭﺮ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﺰﻝ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺭﻭﺯ ﺷﯿﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺎﻡ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ﺳﺎﻧﺴﻮ ﺫﺭﺍ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﭼﻠﻮ
ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﻞ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
راحت اندوری
September 5, 2017
مجھے بے خودی یہ تم نے۔۔بھلی چاشنی چکھائی۔۔
نہ وصال ہے نہ ہجراں ،نہ سرور ہے نہ غم
جسے کہیے خوابِ غفلت ،سو وہ نیند مجھ کو آئی
جسے کہیے خوابِ غفلت ،سو وہ نیند مجھ کو آئی
September 1, 2017
دعا
میرے کاسۂ شب و روز میں
کوئی شام ایسی بھی ڈال دے
سبھی خواھشوں کو ھرا کرے
سبھی خوف دِل سے نکال دے
__________
(امجد اسلام امجد)
کوئی شام ایسی بھی ڈال دے
سبھی خواھشوں کو ھرا کرے
سبھی خوف دِل سے نکال دے
__________
(امجد اسلام امجد)
August 29, 2017
کتابیں کتابوں کے اُوپر
کسی خشک لکڑی کےکیڑے نےکرمِ کتابی سے پوچھا
تمہاری نظر میں یہ سارے شجر کتنے عرصے میں سوُکھیں گے؟
کتنی بہاریں ابھی میرے رستے کو روکھے کھڑی ہیں؟
وہ رستے جہاں سے جہنم کا ساقی مجھے آملے گا؟
وہ کرمِ کتابی کتابوں میں گم تھا
اُسے فکرتھی تو فقط فکر تصدیق روح ِ مقالہ
جہانِ فسردہ کی آتش کہاں سے اُٹھائی گئی تھی؟
کتاب ِ ازل کب کھلی، کیوں کھلی تھی؟
یہ کب ختم ہوگی؟
وہ اعداد کیسے نکلتے ہیں جن کی کوئی عقلی تاویل ہوتی نہیں ہے؟
وہ مزدور کس کو کہا جارہاہے جسے اپنے آگے نہ پیچھے
کوئی چھوڑناہے
کوئی نسل، کوئی عقیدہ، کوئی شہرتِ دائمی کا قصیدہ
کہاں پر ملے گی وہ ہیگل کی تعمیر کردہ
وہ ’’ہونے نہ ہونے‘‘کے مابین کی راہداری؟
وہ غزلیں کہاں ہیں
جو بعداز سلیمان لکھی گئی تھیں
وہ رنگین قالین جس پر کسی کی گلابی حسیں ایڑھیوں
کے نشاں تھے
کتابوں کے کیڑے نے لکڑی کے کیڑے کے تشکیل کردہ سوالوں کو
یوں ان سنا کردیا جیسے کانوں میں رُوئی کے گالے دبے ہوں
وہ سرکوجھکائے، جھُکی ناک پر کالی عینک لگائے
غزالی پہ لکھے گئے اِک مخالف مقالے
کے مٹتے حوالوں کوتکنے پرکھنے میں مشغول ہونے کی
جھوٹی اداکاریاں کررہا تھا۔
یہ مغرور کیڑا جو اخلاق پر عزمِ سقراط سے حکمتِ کانٹ تک
کتنی آبی کتابوں کے انبار ازبر کیے سالہاسال سے
علم پر ناگ بن، پھن کو پھیلائے بیٹھاہوا تھا
کئی ساعتوں تک نہ بولا تو لکڑی کے کیڑے نے
بوسیدہ کرسی کا پایہ اُٹھایا
تو مغرور کیڑے نے عینک کے پیچھے سے آنکھیں گھماتے ہوئے
اُس کو دیکھا
ذرا دیر رک کر تحمّل سےبولا
مجھے پچھلے سوسال سےفرصتیں ہیں
کتابیں کتابوں کے اُوپر پڑی ہیں
کتابوں کے اُوپر کتابیں، کتابوں کے اُوپر کتابیں،کتابوں کے اُوپر کتابیں پڑی ہیں
کتب خانے میرے تسلط میں آکر
مقدمات میں اور مقالوں میں ڈھلتے ہوئے
دن بدن بڑھ رہے ہیں
میں اکیس سوسال میں اتنی فصلوں کا مالک نہیں تھا
مجھے اپنی نسلوں کو اتنی کتابیں کھلانے سے فرصت ملے گی
تو لکڑی کے بارے میں بھی سوچ لونگا
ابھی کچھ بہاریں ذرا صبر کرلو!
تو پھر ہم ہمیشہ ہمیشہ کے ذہنی دباؤ سےفارغ
کسی سبز پیپل کی چھاؤں میں آرام سے بیٹھ کر
خوب تفصیل سے اُس جہنم کی باتیں کرینگے
ابھی بس تسلی کو اتنا کہونگا
کتابوں میں لکھاہے
دوزخ میں پتھرجلیں گے
وہ پتھر جو قسوہ ہیں
دنیا کے سب سے خطرناک پتھر
تو دوزخ میں لکڑی جلانے کا کوئی کہیں تذکرہ ہی نہیں ہے
یہ سن کر وہ لکڑی کیڑا
وہ پیڑوں کی لاشیں چباتاہوا مردہ خوری کامارا، خزاں زاد
لکڑی کا کیڑا
اداسی کے گھبمیر لہجے میں بولا
تو پھر کیا شجر سارےباقی رہینگے؟
توپھرکیا پرندوں کے گھر سارے باقی رہینگے؟
توکرمِ کتابی نےسر کوہلایا
ذرا مسکرا کر بتایا
پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے
مجھے اتنے سالوں، مقالوں میں اک آخری بات معلوم ہوتی رہی ہے
وہ یہ بات ہے کہ،
’’جہنم سے پہلے کہیں کوئی جنت نہیں ہے‘‘
مجھے اتنا معلوم ہےمیرے مزدور بھائی!
کہ صدیوں کا مارا ہوا آدمی تھک چکاہے
جوبَکنا تھا اس کو وہ سب بَک چکاہے
یہ اب جی سکا تو
بشرطیکہ یہ واقعی جی سکا تو
بہاروں کوآنے، درختوں کو جھولا جھلانے سے
کوئی بھی کیڑا نہیں روک پائے گا
انسان ہے، اس کو
کوئی بھی کیڑا کبھی روک سکتا نہیں ہے۔
ادریس آزاد
August 28, 2017
August 25, 2017
وہ زندگی سے کیا گیا۔۔۔
وہ زندگی سے کیا گیا دھواں اڑا کے رکھ دیا
مکاں کے اک ستون نے مکاں گرا کے رکھ دیا
وہ راہ سے چلا گیا تو راہ موڑ بن گئی
میرے سفر نے راستہ کہاں چھپا کے رکھ دیا
کسی دیئے کی طرز سے گزر رہی ہے زندگی
یہاں جلا کے رکھ دیا، وہاں بجھا کے رکھ دیا
وجود کی بساط پر بڑی عجیب مات تھی
یقین لٹا کے اٹھ گئے، گماں بچا کے رکھ دیا
عاطف توقیر
مکاں کے اک ستون نے مکاں گرا کے رکھ دیا
وہ راہ سے چلا گیا تو راہ موڑ بن گئی
میرے سفر نے راستہ کہاں چھپا کے رکھ دیا
کسی دیئے کی طرز سے گزر رہی ہے زندگی
یہاں جلا کے رکھ دیا، وہاں بجھا کے رکھ دیا
وجود کی بساط پر بڑی عجیب مات تھی
یقین لٹا کے اٹھ گئے، گماں بچا کے رکھ دیا
عاطف توقیر
August 23, 2017
August 13, 2017
ہوکا۔۔۔۔
کل بیٹھا کجھ سوچ ریا ساں
گل اک گزرے ویلے دی
اپنے پنڈ دے پپلاں ہیٹھاں
چھوٹی عید دے میلے دی
میں جیہڑا مشہور ہاں ایناں
دل دے بھید لکاون وچ
غم دی تکھی چیک نوں گھٹ کے
اپروں ہسدا جاون وچ
اوس پرانےدن دے وچوں
کر کے یاد اک موکے نوں
زور وی لاکے روک نیئں سکیا
اپنے دل دے ہوکے نوں
(منیر نیازی)
گل اک گزرے ویلے دی
اپنے پنڈ دے پپلاں ہیٹھاں
چھوٹی عید دے میلے دی
میں جیہڑا مشہور ہاں ایناں
دل دے بھید لکاون وچ
غم دی تکھی چیک نوں گھٹ کے
اپروں ہسدا جاون وچ
اوس پرانےدن دے وچوں
کر کے یاد اک موکے نوں
زور وی لاکے روک نیئں سکیا
اپنے دل دے ہوکے نوں
(منیر نیازی)
Subscribe to:
Posts (Atom)