مَحبت بیس پچّیس تیس برسوں میں نہیں ہوتی
یہ پَل بھر تا زَمَن کی وسعتوں کو ڈھانپ لیتی ہے
(یہ پل کا گیان ہے اور عمر بھر کامِل نہیں ہوتا)
.
کسی نایافت کی دریافت، غیبی ہاتھ کے احساں
تن و جیون، حیات و کائنات و وقت کی بخشش
منال و رزق و صحّت، درک و فہم و آگہی کی دین
نہ ہو قطمیر کا مالک جو، اس کو اک جہاں دینا
.
نعَم، احساس، ارماں، اوّل و آخر عطا جس کی
اسی کی یافت ڈھل کر شکر میں ہے بے پناہ تسلیم
لہُ ہے قلب ممنوں، ذہن ساجد، درک پُر تعظیم
.
یہ حالت بیس پچیس تیس برسوں میں نہیں ہوتی
یہ حق باطل کا یُدھ ہے عمر بھر فیصل نہیں ہوتا
.
اکیلا دل لکھوکھا خواہشوں سے کس طرح نپٹے
زباں یکبارگی ہو نوع نوع کی کس طرح ذائق
بہت مجبور ٹھہرے اختیارِ خیر و شر کے بیچ
اتر آ مستعان اب تو، مَیں نِربَل، روگ یہ سرتیچھ
.
عبادت بیس پچیس تیس برسوں میں نہیں ہوتی
یہ دل کا شکر ہے تعمیل کر کر اور بڑھتا ہے ـ ـ ـ
احمد سلمان اشرف
Na Zmeen Hay Meri Qraar Gah, Na Falak Hay Manzil-e-Jazb-e-Dil....Bari Dair Say Hay Safar Mera, Teri Yaad Say Teri Yaad Tak
May 29, 2017
May 7, 2017
”کبھی یاد آؤ تو اس طرح“
”کبھی یاد آؤ تو اس طرح“
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ھو
تو دیارِ ھجر کی تیرگی کو
مژہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ دل و نظر میں اُتر سکو
کبھی حد سے حبسِ جنوں بڑھے
تو حواس بن کے بکھر سکو
کبھی کِھل سکو شبِ وصل میں
کبھی خونِ جگر میں سنور سکو
سرِ رھگزر جو ملو کبھی
نہ ٹھہر سکو نہ گزر سکو
میرا درد پھر سے غزل بنے
کبھی گنگناؤ تو اس طرح
میرے زخم پھر سے گلاب ھوں
کبھی مسکراؤ تو اس طرح
میری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
کبھی چوٹ کھاؤ تو اس طرح
جو نہیں تو پھر بڑے شوق سے
سبھی رابطے سبھی ضابطے
کسی دھوپ چھاؤں میں توڑ دو
نہ شکستِ دل کا ستم سہو
نہ سنو کسی کا عذابِ جاں
نہ کسی سے اپنی خلش کہو
یونہی خوش پھرو ، یونہی خوش رھو
نہ اُجڑ سکیں ، نہ سنور سکیں
کبھی دل دُکھاؤ تو اس طرح
نہ سمٹ سکیں ، نہ بکھر سکیں
کبھی بھول جاؤ تو اس طرح
کسی طور جاں سے گزر سکیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ھو
تو دیارِ ھجر کی تیرگی کو
مژہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ دل و نظر میں اُتر سکو
کبھی حد سے حبسِ جنوں بڑھے
تو حواس بن کے بکھر سکو
کبھی کِھل سکو شبِ وصل میں
کبھی خونِ جگر میں سنور سکو
سرِ رھگزر جو ملو کبھی
نہ ٹھہر سکو نہ گزر سکو
میرا درد پھر سے غزل بنے
کبھی گنگناؤ تو اس طرح
میرے زخم پھر سے گلاب ھوں
کبھی مسکراؤ تو اس طرح
میری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
کبھی چوٹ کھاؤ تو اس طرح
جو نہیں تو پھر بڑے شوق سے
سبھی رابطے سبھی ضابطے
کسی دھوپ چھاؤں میں توڑ دو
نہ شکستِ دل کا ستم سہو
نہ سنو کسی کا عذابِ جاں
نہ کسی سے اپنی خلش کہو
یونہی خوش پھرو ، یونہی خوش رھو
نہ اُجڑ سکیں ، نہ سنور سکیں
کبھی دل دُکھاؤ تو اس طرح
نہ سمٹ سکیں ، نہ بکھر سکیں
کبھی بھول جاؤ تو اس طرح
کسی طور جاں سے گزر سکیں
May 5, 2017
چنچل البیلی لڑکی
وہ چنچل البیلی لڑکی
وہ چنچل البیلی لڑکی میری نظمیں یوں پڑھتی ہے
جیسے ان نظموں کا محور
اس کی اپنی ذات نہیں ہے
یعنی اتنی سندر لڑکی اور بھی ہو سکتی ہیں
جیسے اس کو علم نہیں یہ ساری باتیں اس کی ہیں
ساری گھاتیں اس کی ہیں
ہر آہٹ ہے اس کی خوشبو سب سائے ہیں اس کے سائے
سارے محل اس کے ہیں
ہر خوشبو ہے اس کی خوشبو سب چہرے ہیں اس کے چہرے
سارے آنچل اس کے ہیں
جیسے اس کو علم نہیں ہے اس لڑکی کے سارے کام
سارے نام اسی کے ہیں
ہر کھڑکی ہے اس کی کھڑکی سارے بام اسی کے ہیں
اس لڑکی کے نام سے میں نے جو کچھ اپنے نام لکھا ہے
اس سے ہی منسوب ہوا
شاید میرا وہم ہو لیکن میں نے یہ محسوس کیا ہے
جب میں نظم سناتا ہوں وہ آنکھ چرانے لگتی ہے
مجھ سے نظریں مل جائیں تو وہ شرمانے لگتی ہے
کچھ لمحے وہ چنچل لڑکی گم سُم ہو جاتی ہے
لیکن تھوڑی دیر میں پھر سے پتھر کی ہو جاتی ہے
جیسے میری نظم کی لڑکی
امجد اسلام امجد
وہ چنچل البیلی لڑکی میری نظمیں یوں پڑھتی ہے
جیسے ان نظموں کا محور
اس کی اپنی ذات نہیں ہے
یعنی اتنی سندر لڑکی اور بھی ہو سکتی ہیں
جیسے اس کو علم نہیں یہ ساری باتیں اس کی ہیں
ساری گھاتیں اس کی ہیں
ہر آہٹ ہے اس کی خوشبو سب سائے ہیں اس کے سائے
سارے محل اس کے ہیں
ہر خوشبو ہے اس کی خوشبو سب چہرے ہیں اس کے چہرے
سارے آنچل اس کے ہیں
جیسے اس کو علم نہیں ہے اس لڑکی کے سارے کام
سارے نام اسی کے ہیں
ہر کھڑکی ہے اس کی کھڑکی سارے بام اسی کے ہیں
اس لڑکی کے نام سے میں نے جو کچھ اپنے نام لکھا ہے
اس سے ہی منسوب ہوا
شاید میرا وہم ہو لیکن میں نے یہ محسوس کیا ہے
جب میں نظم سناتا ہوں وہ آنکھ چرانے لگتی ہے
مجھ سے نظریں مل جائیں تو وہ شرمانے لگتی ہے
کچھ لمحے وہ چنچل لڑکی گم سُم ہو جاتی ہے
لیکن تھوڑی دیر میں پھر سے پتھر کی ہو جاتی ہے
جیسے میری نظم کی لڑکی
امجد اسلام امجد
May 2, 2017
Breath taking
تَعلق رکھ لِیا باقی، یقیں اب توڑ آیا ہوں
کسی کا ساتھ دینا تھا، کسی کو چھوڑ آیا ہوں
تمہارے ساتھ جینے کی قَسم کھانے سے کچھ پہلے
میں کچھ وعدے، کئی قَسمیں کہیں پر توڑ آیا ہوں۔۔۔۔۔۔!
محبت کانچ کا زنداں، یونہی سنگِ گِراں کب تھی
جہاں سَر پھوڑ سکتا تھا، وہیں سَر پھوڑ آیا ہوں
پلٹ کر آ گیا لیکن یوں لگتا ہے کہ اپنا آپ
جہاں تم مجھ سے بچھڑے تھے وہیں پر چھوڑ آیا ہوں۔
اُسے جانے کی جلدی تھی، سو میں آنکھوں ہی آنکھوں میں
جہاں تک چھوڑ سکتا تھا، وہیں تک چھوڑ آیا ہوں
کسی کا ساتھ دینا تھا، کسی کو چھوڑ آیا ہوں
تمہارے ساتھ جینے کی قَسم کھانے سے کچھ پہلے
میں کچھ وعدے، کئی قَسمیں کہیں پر توڑ آیا ہوں۔۔۔۔۔۔!
محبت کانچ کا زنداں، یونہی سنگِ گِراں کب تھی
جہاں سَر پھوڑ سکتا تھا، وہیں سَر پھوڑ آیا ہوں
پلٹ کر آ گیا لیکن یوں لگتا ہے کہ اپنا آپ
جہاں تم مجھ سے بچھڑے تھے وہیں پر چھوڑ آیا ہوں۔
اُسے جانے کی جلدی تھی، سو میں آنکھوں ہی آنکھوں میں
جہاں تک چھوڑ سکتا تھا، وہیں تک چھوڑ آیا ہوں
April 28, 2017
March 20, 2017
کوئی
سرِ طاقِ جاں نہ چراغ ھے
پسِ بامِ شب نہ سحر کوئی
عجب ایک عرصہِ درد ھے
نہ گمان ھے نہ خبر کوئی
نہیں اب تو کوئی ملال بھی
کسی واپسی کا خیال بھی
غمِ بے کسی نے مٹا دیا
میرے دل میں تھا بھی اگر کوئی۔
کٹے وقت چاھے عذاب میں
کِسی خواب میں یا سراب میں
جو نظر سے دُور نکل گیا
اُسے یاد کرتا ھے ھر کوئی
سرِ بزم جتنے چراغ تھے
وہ تمام رمز شناس تھے
تیری چشمِ خوش کے لحاظ سے
نہیں بولتا تھا مگر کوئی
تجھے کیا خبر ھے کہ رات بھر
تجھے دیکھ پانے کو اِک نظر
رھا ساتھ چاند کے منتظر
تیری کھڑکیوں سے اُدھر کوئی۔
سرِ شاخِ جاں تیرے نام کا
عجب ایک تازہ گلاب تھا
جسے آندھیوں سے خطر نہ تھا
جسے تھا خزاں کا نہ ڈر کوئی
تیری بے رُخی کے دیار میں
گھنی تیرگی کے حصار میں
جلے کس طرح سے چراغِ جاں
کرے کس طرف کو سفر کوئی؟؟
”امجد اسلام امجد“
پسِ بامِ شب نہ سحر کوئی
عجب ایک عرصہِ درد ھے
نہ گمان ھے نہ خبر کوئی
نہیں اب تو کوئی ملال بھی
کسی واپسی کا خیال بھی
غمِ بے کسی نے مٹا دیا
میرے دل میں تھا بھی اگر کوئی۔
کٹے وقت چاھے عذاب میں
کِسی خواب میں یا سراب میں
جو نظر سے دُور نکل گیا
اُسے یاد کرتا ھے ھر کوئی
سرِ بزم جتنے چراغ تھے
وہ تمام رمز شناس تھے
تیری چشمِ خوش کے لحاظ سے
نہیں بولتا تھا مگر کوئی
تجھے کیا خبر ھے کہ رات بھر
تجھے دیکھ پانے کو اِک نظر
رھا ساتھ چاند کے منتظر
تیری کھڑکیوں سے اُدھر کوئی۔
سرِ شاخِ جاں تیرے نام کا
عجب ایک تازہ گلاب تھا
جسے آندھیوں سے خطر نہ تھا
جسے تھا خزاں کا نہ ڈر کوئی
تیری بے رُخی کے دیار میں
گھنی تیرگی کے حصار میں
جلے کس طرح سے چراغِ جاں
کرے کس طرف کو سفر کوئی؟؟
”امجد اسلام امجد“
March 6, 2017
چلے جاتے ہیں۔۔۔
میری تنہائی بڑھاتے ہیں چلے جاتے ہیں
ہنس تالاب پہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں
اس لیے اب میں کسی کو نہیں جانے دیتا
جو مجھے چھوڑ کے جاتے ہیں چلے جاتے ہیں
میری آنکھوں سے بہا کرتی ہے ان کی خوشبو
رفتگاں خواب میں آتے ہیں چلے جاتے ہیں
شادیٔ مرگ کا ماحول بنا رہتا ہے
آپ آتے ہیں رلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
کب تمہیں عشق پہ مجبور کیا ہے ہم نے
ہم تو بس یاد دلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
آپ کو کون تماشائی سمجھتا ہے یہاں
آپ تو آگ لگاتے ہیں چلے جاتے ہیں
ہاتھ پتھر کو بڑھاؤں تو سگان دنیا
حیرتی بن کے دکھاتے ہیں چلے جاتے ہیں
عباس تابش
ہنس تالاب پہ آتے ہیں چلے جاتے ہیں
اس لیے اب میں کسی کو نہیں جانے دیتا
جو مجھے چھوڑ کے جاتے ہیں چلے جاتے ہیں
میری آنکھوں سے بہا کرتی ہے ان کی خوشبو
رفتگاں خواب میں آتے ہیں چلے جاتے ہیں
شادیٔ مرگ کا ماحول بنا رہتا ہے
آپ آتے ہیں رلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
کب تمہیں عشق پہ مجبور کیا ہے ہم نے
ہم تو بس یاد دلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
آپ کو کون تماشائی سمجھتا ہے یہاں
آپ تو آگ لگاتے ہیں چلے جاتے ہیں
ہاتھ پتھر کو بڑھاؤں تو سگان دنیا
حیرتی بن کے دکھاتے ہیں چلے جاتے ہیں
عباس تابش
February 21, 2017
آ گئی یاد
آ گئی یاد ، شام ڈھلتے ھی
بجھ گیا دل ، چراغ جلتے ھی
کھل گئے ، شہرِ غم کے دروازے
اِک ذرا سی ھَوا کے چلتے ھی
کون تھا تُو ، کہ پھر نہ دیکھا تجھے ؟
مِٹ گیا خواب ، آنکھ ملتے ھی
خوف آتا ھے اپنے ھی گھر سے
ماہِ شبِ تاب کے نکلتے ھی
تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ھے
عکسِ دیوار کے بدلتے ھی
”منیر نیازی“
بجھ گیا دل ، چراغ جلتے ھی
کھل گئے ، شہرِ غم کے دروازے
اِک ذرا سی ھَوا کے چلتے ھی
کون تھا تُو ، کہ پھر نہ دیکھا تجھے ؟
مِٹ گیا خواب ، آنکھ ملتے ھی
خوف آتا ھے اپنے ھی گھر سے
ماہِ شبِ تاب کے نکلتے ھی
تُو بھی جیسے بدل سا جاتا ھے
عکسِ دیوار کے بدلتے ھی
”منیر نیازی“
January 1, 2017
میرے قلم سے ۔۔۔نئے سال کے لئیے دعا
ا ے میرے مالک
اے میرے مولا
میری بس اتنی سی التجا ہے
کہ آنے والے نئے دنوں میں
گزرتی تکلیف دہ رتوں کا
اداسیوں کا کدورتوں کا
دلوں میں مخفی رقابتوں کا
کوئی بھی لمحہ نہ لوٹ آئے
اے میرے مالک
میری دعا ہے
کہ آنے والے ہر ایک پل میں
محبتیں ہوں رفاقتیں ہوں
دلوں میں سب ہی کے چاہتیں ہوں
بہار رُ ت کی ملاحتوں میں
خزاں کی تلخی نہ لوٹ آئے
اے میرے مالک
اے میرے اللہ
تیرے ہی در پر سوال لائے
تجھی سے فریاد کر رہے ہیں
کہ آنے والے ہر ایک پل میں
عروج بخشے تو اس طرح کہ
زوال و پستی نہ لوٹ آئے
اے میرے مالک
اے میرے آقا
میری دعاوں کی لاج رکھنا
تو اپنی رحمت کی بارشوں سے
سالِ نو پُر بہار رکھنا ۔۔۔
آمین
اے میرے مولا
میری بس اتنی سی التجا ہے
کہ آنے والے نئے دنوں میں
گزرتی تکلیف دہ رتوں کا
اداسیوں کا کدورتوں کا
دلوں میں مخفی رقابتوں کا
کوئی بھی لمحہ نہ لوٹ آئے
اے میرے مالک
میری دعا ہے
کہ آنے والے ہر ایک پل میں
محبتیں ہوں رفاقتیں ہوں
دلوں میں سب ہی کے چاہتیں ہوں
بہار رُ ت کی ملاحتوں میں
خزاں کی تلخی نہ لوٹ آئے
اے میرے مالک
اے میرے اللہ
تیرے ہی در پر سوال لائے
تجھی سے فریاد کر رہے ہیں
کہ آنے والے ہر ایک پل میں
عروج بخشے تو اس طرح کہ
زوال و پستی نہ لوٹ آئے
اے میرے مالک
اے میرے آقا
میری دعاوں کی لاج رکھنا
تو اپنی رحمت کی بارشوں سے
سالِ نو پُر بہار رکھنا ۔۔۔
آمین
November 24, 2016
اُ داسی
ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﺟﺐ ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ
ﺍُﺗﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺑﮩﺖ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﭘﺮ ﺷﺠﺮ ﺟﺐ ﺑﯿﻦ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍُﺗﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺑﮩﺖ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ
ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﭘﺮ ﺷﺠﺮ ﺟﺐ ﺑﯿﻦ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
Subscribe to:
Posts (Atom)
