November 26, 2010

Description..!!!

خوابوں کی طرح تھا نہ خیالوں کی طرح تھا
وہ علمِ ریاضی کے سوالوں کی طرح تھا
اُلجھا ہوا اتنا کہ کبھی کُھل نہیں پایا
سُلجھا ہوا ایسا کہ مثالوں کی طرح تھا

November 22, 2010

ذرا خود ہی سوچو۔۔۔

یہ اب کس لیے تم

میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر

یہ کہتے ہو مُجھ سے

کہ تم اپنی ساری تھکانیں مُجھے سونپ کر

میرے سِینے پہ سر رکھ کے

پچھلی مُسافت کی جاگی ہوئی

ساری نیندوں کو سو لو

جو ہونٹوں پہ ٹھری ہوئی پیاس ہے

اُس کے صحرا بِھگو لو

تمہارا یہ لمسِ تازہ ہی اب میرا ہمراز ہو گا

تمہارا یقیں میرا اعزاز ہو گا

یہیں سے محبت کا آغاز ہو گا

یہ اب کس لیے تم

میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر

یہ کہتے ہو مجھ سے؟؟؟

ذرا خود ہی سوچو

ابھی کل تلک تم

میرے خال و خد

میرے ہاتھوں کی ریکھاؤں

اور میرے سارے سفر کو

میری شاعری

میرے دستِ ہُنر کو

میرے ذہن کو

میری فِکرِ رسا کو

کبھی ریت کہتے

کبھی تم ہواؤں سے تشبیہ دیتے

کبھی خاک اور راکھ کہتے نہ تھکتے

مگر اب اچانک

یہ کیا کہہ رہے ہو؟؟؟

ذرا خود ہی سوچو
ذرا خود ہی سوچو۔۔۔

November 21, 2010

فاصلے ضروری ہیں۔۔۔

فاصلے ضروری ہیں
دورِیاں بھی اچھی ہیں
ہم کو ایک دوجے کی
اہمیت بتاتی ہیں
پیار اور چاہت کو
مان کو بڑھاتی ہیں
یہ اگر نہیں ہوں تو
سچے پاک رشتے بھی
اپنی قدر کھو بیٹھیں
اِس لیے ضروری ہے
کُچھ سمے جُدائی بھی
ہم کو ایک دوجے کے
ساتھ سے رہائی بھی
اپنے دل کے مندر میں
پیار جگمگانے کو
چاہتیں بڑھانے کو
فاصلے ضروری ہیں
دُورِیاں بھی اچھی ہیں۔۔۔

November 16, 2010

قیامت

ضروری تو نہیں سورج سوا نیزے پہ آ جائے

بدل جائے کوئی اپنا قیامت ہو ہی جاتی ہے

November 12, 2010

کچھ نہ پائے۔۔۔

بہار کیا،اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے
تو کُچھ نہ پائے
میں برگِ صحرا ھوں
یوں بھی مجھ کو ہوا اُڑائے
تو کچھ نہ پائے
میںپستیوں میں بھی خوش بڑا ھوں
زمیں کے ملبوس میں جُڑا ھوں
مثلِ نقشِ قدم پڑا ھوں
کوئی مٹائے تو کچھ نہ پائے
تمام رسمیں ہی توڑ دی ہیں
کہ میں نے آنکھیں ہی پھوڑ دی ہیں
زمانہ اب مجھ کو
آئنہ بھی میرا دکھائے
تو کچھ نہ پائے
عجیب خواہش ہے میرے دل میں
کبھی تو میری صدا کو سُن کر
نظر جُھکائے تو خوف کھائے
نظر اُٹھائے تو کچھ نہ پائے
میں اپنی بے مائیگی چُھپا کر
کواڑ اپنے کُھلے رکھوں گا
کہ میرے گھر میں اُداس موسم کی شام آئے
تو کچھ نہ پائے
اُسے گنوا کر
پھر اُس کو پانے کا شوق دل میں
تو یوں ہے مُحسن
کہ جیسے پانی پہ دائرہ سا
کوئی بنائے
تو کچھ نہ پائے۔۔۔

November 6, 2010

ماں کی یاد میں۔۔۔

ہم جُگنوتھے، ہم تتلی تھے
ہم رنگ برنگے پنچھی تھے
کُچھ ماہ و سال کی جنت میں
ماں ہم دونوں بھی سانجھی تھے
میں چُھوٹی سی اک بچی تھی
تیری اُنگلی تھام کے چلتی تھی
تُو دور نظر سے ہوتی تھی
میں آنسو آنسو روتی تھی
اک خوابوں کا روشن بستہ
تُو روز مُجھے پہناتی تھی
جب ڈرتی تھی میں راتوں کو
تُو اپنے ساتھ سُلاتی تھی
ماںتُو نے کتنے برسوں تک
اک پُھول کو سینچا ہاتھوں سے
جیون کے گہرے بھیدوں کو
میں سمجھی تیری باتوں سے
میںتیرے ہاتھ کے تکیے پر
اب بھی رات کو سوتی ہوں
ماں میں چھوٹی سی اک بچی
تیری یاد میں اب بھی روتی ہوں