January 29, 2011

مُشکل

مجھے کچھ دیر سونا ہے۔۔۔
زمانے چیختے ہیں میرے کانوں میں
خاموشی کس طرح ہو گی؟؟؟
میری آنکھوں میں سورج آ بسا ہے
رات کیسے ہو؟؟؟

January 24, 2011

CONFIDENTIAL!!!

آخرِ شب جو میری آنکھ میں بادل بھٹکا

کبھی برسا کبھی رویا کبھی ناشاد کیا

میں کہ انجان سی راہوں کا مسافر ٹھرا

ہر قدم تیری تمناؤں سے آباد کیا

نارسائی کی کسک دل سے لبوں تک پُہنچی

اِک نئے سُخن نے قرطاس پھر آباد کیا

ہم نے جب بھی کبھی دل کے نہاں پردے کھولے

اِک تیری یاد نے ہر یاد سے آزاد کیا

خاک پا ،چاک گریباں، تہی دامن ،تنہا

کس طرح تیری طلب نے ہمیں برباد کیا

اِک تصور جو تیرے ساتھ کا دل میں بندھا

تیری ان دیکھی سی چاہت کو بہت یاد کیا

لمبی راتیں تیری مُسکان سے روشن روشن

اپنی سوچوں میں تُجھے چاند کا ہمزاد کیا

دل کی دھڑکن میں کوئی نام ہے پِنہاں جیسے

اپنی ہر سانس کو اُسی نام سے آباد کیا

January 22, 2011

جُرم

میں مجرِم ہوں مُجھے اِقرار ہے جُرمِ محبت کا
مگر پہلے خطا پر غور کر لو پھر سزا دینا۔۔

January 19, 2011

تمھیں میں کس طرح دیکھوں؟؟؟

دریچھ ہے دھنک کا اور ایک بادل کی چلمن ہے
اور اس چلمن کے پیچھے
چُھپ کے بیٹھےکُچھ ستارے ہیں
ستاروں کی نِگاہوں میں
عجب سی ایک اُلجھن ہے
وہ ہم کو دیکھتے ہیں اور پھر
آپس میں کہتے ہیں
" یہ منظر آسماں کا تھا یہاں پر کس طرح پُہنچا
زمیں زادوں کی قسمت میں یہ جنت کس طرح آئی
ستاروں کی یہ حیرانی سمجھ میں آنے والی ہے
کہ ایسا دلنشیں منظر کسی نے کم ہی دیکھا ہے
ہمارے درمیاں اِس وقت
جو چاہت کا موسم ہے
اُسے لفظوں میں لکھیں تو
کتابیں جگمگا اُٹھیں
جو سوچیں اِسکے بارے میں
تو روحیں گُنگُنا اُٹھیں
جو تم ہو میرے پہلو میں
کہ خوابِ زندگی تعبیر کی صورت میں آیا ہے؟
یہ کھلتے پھول سا چہرہ
جو اپنی مُسکراہٹ سے
جہاں میں روشنی کر دے
لہو میں تازگی بھر دے
بدن اک ڈھیر ریشم کا
جو ہاتھوں میں نہیں رُکتا
انوکھی سی کوئی خشبو
کہ آنکھیں بند ہو جائیں
سُخن کی جگمگاہٹ سے
شگوفے پھوٹتے جائیں
چُھپا کاجل بھری آنکھوں میں کوئی راز گہرا ہے
بہت نزدیک سے دیکھیں تو چیزیں پھیل جاتی ہیں
سو میرے چار سو دو جھیل سی آنکھوں کا پہرا ہے
تمھیں میں کس طرح دیکھوں؟؟؟

January 17, 2011

؟؟؟

میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں
وہ تبسم وہ تکلُم تیری عادت ہی نہ ہو۔۔؟؟

January 15, 2011

فاصلہ

اِک چاند تنہا کھڑا رہا
میرے آسماں سے ذرا پرے
میرے ساتھ ساتھ سفر میں تھا
میری منزِلوں سے ذرا پرے
تیری جُستجو کے حصار سے
تیرے خواب تیرے خیال سے
میں وہ شخص تھا جو کھڑا رہا
تیری چاہتوں سے ذرا پرے
کبھی دل کی بات کہی نہ تھی
جو کہی تو وہ بھی دبی دبی
میرے لفظ پورے تو تھے مگر
تیری سماعتوں سے ذرا پرے
تو چلا گیا میرے ہمسفر
ذرا دیکھ مُڑ کے تو اِک نظر
میری کشتِیاں ہیں جلی ہوئی
تیرے ساحلوں سے ذرا پرے۔۔۔

January 11, 2011

اُسے کہنا۔۔

اُسے کہنا
بِچھڑنے سے مُحبت تو نہیں مرتی
بچھڑ جانا مُحبت کی صداقت کی علامت ہے
مُحبت آئنِ فِطرت ہے
اور فِطرت کب بدلتی ہے
سو جب ہم دور ہو جائیں
نئے رِشتوں میں کھو جائیں
تو یہ مت سوچ لینا تم
مِحبت مر گئی ہو گی
نہیں ایسا نہیں ہو گا
میرے بارے میں سُن کے جب
تمہاری آنکھ بھر آئے
چھلک کر ایک بھی آنسو
پلک پر جو اُتر آئے
تو بس اِتنا سمجھ لینا
جو میرے نام سے اِتنی
تیرے دل کو عقیدت ہے
تیرے دل میں بِچھڑ کر بھی
ابھی میری مُحبت ہے
مُحبت جو بِکھر کر بھی
صدا آباد رہتی ہے
مُحبت ہو کسی سے تو
ہمیشہ یاد رہتی ہے
مُحبت وقت کے بے رحم
طوفاں سے نہیں ڈرتی
اُسے کہنا
بِچھڑنے سے مُحبت تو نہیں مرتی۔۔۔۔

ایک شعر

یہ زُعم تھا کہ کون و مکاں دسترس میں ہیں
آنکھیں کُھلیں تو ذات کی منزل بھی طے نہ تھی

January 3, 2011

O MOTHER...!!!

what were we..???
singing nightingales
we lived in the land of
fairy tales
with wishes that be,and the dreams for sale
an the light of hundred shining suns
OMother! we were best friends once

Ignoring the stupid kid I was
you held my hand with out a cause
You, being out of sight with out a pause
raised in my heart , a trembling fear
with burning eyes and constant tears

and every day with a bag of dreams
you'd led my way into sunlit beams
and in nights of horror and silent screams
with love in ur eyes and words unsaid
you hushed my fears
and tucked me in bed

for years and years you nurtured me
a shy little blossom to a blooming tree
in darkness, where answers I could not see
with simple words and simple lines
you made the answers slaves of mine

I feel it , still by me you stand
I still linger to your caressing hand
in ways, I no longer can stand
your memories ,they pass me by
I feel you still, and still I cry....