January 15, 2011

فاصلہ

اِک چاند تنہا کھڑا رہا
میرے آسماں سے ذرا پرے
میرے ساتھ ساتھ سفر میں تھا
میری منزِلوں سے ذرا پرے
تیری جُستجو کے حصار سے
تیرے خواب تیرے خیال سے
میں وہ شخص تھا جو کھڑا رہا
تیری چاہتوں سے ذرا پرے
کبھی دل کی بات کہی نہ تھی
جو کہی تو وہ بھی دبی دبی
میرے لفظ پورے تو تھے مگر
تیری سماعتوں سے ذرا پرے
تو چلا گیا میرے ہمسفر
ذرا دیکھ مُڑ کے تو اِک نظر
میری کشتِیاں ہیں جلی ہوئی
تیرے ساحلوں سے ذرا پرے۔۔۔

3 comments:

Anonymous said...

میرے لفظ پورے تو تھے مگر ♥
تیری سماعتوں سے ذرا پرے

Ambareen said...

Bohot khoob.

Unknown said...

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کلام کس کا ہے۔۔

اک چاند تنہا کھڑا رہا میرے آسماں سے ذرا پرے