December 11, 2010

تنہائی

دنیا کی پُر شور فضا میں
اپنا اپنا درد چُھپائے
تنہائی کے گھور خلا میں
ڈُوب رہا ہے ہر اِک تنہا
تنہائی کا درد چُھپائے
پِھرتا ہے آوارہ بادل
کُوچہ کُوچہ قریہ قریہ
جھانک رہا ہے ڈھونڈ رہا ہے
کوئی ساتھی۔۔۔
پر نظروں میں دُور دُور تک
ویرانہ ہی ویرانہ ہے
تنہائی ہی تنہائی ہے
تاروں سے مسحور فضا میں
بھٹک رہا ہے چاند اکیلا
گردش ہی گردش ہے پیہم
کوئی نہ رستہ کوئی نہ منزل
ہر دم منزل ڈھونڈنے والے
سب نے ڈھونڈا کس نے پایا
کس نے پایا کس نے کھویا
پانے والے کھو دیتے ہیں
کھونے والے پا نہیں سکتے
پھر تُو کس اُمید پہ اب تک
یوں آوارہ گُھوم رہا ہے؟
چُپکے سے اپنے ہی من میں
اِک لمحے کو جھانک ذرا تُو
ویرانی ہی ویرانی ہے
تنہائی ہی تنہائی ہے
جھیل کنارے شام سویرے
ھنس اکیلا گھُوم رہا ہے
دُور اُفق پر نظریں گاڑے
جانے کس کو دیکھ رہا ہے
دیکھ رہا ہے سوچ رہا ہے
کتنے دن یوں بیت گئے ہیں
کتنی راتیں بِھیگ چُکی ہیں
کتنی شامیں صُبح ہوئی ہیں
کتنی صُبحیں شام ہوئی ہیں
جانے والے جا بھی چُکے ہیں
آنے والے کبھی نہ آئے
اِک دن یونہی تکتے تکتے
یہ آنکھیں پتھرا جائیں گی
تو دل سے آواز اُٹھے گی
مت رو پیارے مت رو پیارے
تنہا آنا تنہا جانا
اِس دُنیا کی رِیت ہے پیارے
دُور کہیں اِک جوگن بیٹھی
راہ کسی کی دیکھ رہی ہے
باہر اِک طُوفان بپا ہے
بند کواڑوں سے ٹکرا کے
تُند بگولے چیخ رہے ہیں
اِن چیخوں سے تھراتی ہے
ڈرتی اور گھبرا جاتی ہے
لیکن پھر بھی ہر دستک پر
بند کواڑوں کو تکتی ہے
تکتی ہے اور سوچ رہی ہے
پھر کُچھ سوچ کے بڑھ جاتی ہے
جانے کون کھڑا ہو باہر
میں اپنا آنچل تو سنبھالوں
اپنے آپ کو دیکھتی ہے
چلتی اور ٹھٹکتی ہے پھر
شرماتی اور مُسکاتی ہے
اور پھر سوچ کے بڑھ جاتی ہے
جانے کب سے کھڑا ہو باہر
بیچارہ مجبُور مُسافر
جلدی سے دروازہ کھولوں
آہستہ سے آگے بڑھ کر
جوگن نے پٹ کھول دیے ہیں
آنے والا سرد ہوا کا اِک جھونکا تھا
سناٹا ہی سناٹا ہے
ویرانی ہی ویرانی ہے
تُو بھی تنہا میں بھی تنہا۔۔۔۔۔؛؛؛

5 comments:

Anonymous said...

:(

Rida said...

thats life :( sad but true...

Anonymous said...

http://www.youtube.com/watch?v=hdZhOScpWIg

Do listen

Rida said...

loving this now a dayz....its simply awesome....i m haunted by the lyrics these dayz...

Anonymous said...

Same hconerserere